غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں 36 فلسطینیوں پر مشتمل سولہواں قافلہ پہنچ گیا جو مصر سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ واپس لوٹے ہیں۔ ان وطن واپسی کرنے والوں کے چہروں پر جہاں خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات تھے وہیں دوسری جانب وہ سب غاصب اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ پر اختیار کیے گئے پیچیدہ اقدامات اور طویل تحقیقاتی عمل کے باعث شدید تھکن سے چور نظر آئے۔
آلاء فروہ جو اپنی والدہ کے استقبال کے لیے بے قرار تھیں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں میری روح، میری زندگی اور میری سانسوں کی مانند ہیں۔ میں آج بے حد خوش ہوں کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے میں ہمارے ساتھ ہوں گی کیونکہ دو سال کی جدائی اور اس طویل عرصے تک ان سے دوری میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ تھا۔
وطن واپسی پر اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانے والی ماں فیروز فورہ نے کہا کہ میں دوبارہ واپسی کی امید کھو چکی تھی لیکن جب میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے رجسٹریشن کروائی تو جواب بہت جلد آ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل پائی، سفر انتہائی کٹھن اور تھکا دینے والا تھا لیکن اپنے پیاروں سے ملنے کے بعد یہ تمام دکھ دور ہو گئے ہیں۔
ادھر محمد مہنا نے بھی غزہ واپسی پر شدید مسرت کا اظہار کیا، حالانکہ وہ غاصب اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں لگنے والے گہرے زخموں سے اب تک نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے صہیونی نسل کشی کی جنگ کے دوران اپنے والد، والدہ اور بڑے بھائی کو کھو دیا تھا۔
واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی افواج نے سنہ 2024 کے ماہ مئی میں رفح شہر پر چڑھائی کرنے کے بعد اس گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دو فروری سنہ 2026 کو انتہائی محدود پیمانے پر سخت شرائط اور پیچیدہ اقدامات کے تحت دوبارہ کھولا گیا ہے۔
غزہ کے سرکاری ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی افواج گزرگاہ کے ذریعے آمد و رفت میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہیں اوردس اکتوبر سنہ 2025ء کے سے نافذ العمل جنگ بندی کے تحت طے پانے والی مسافروں کی مطلوبہ تعداد کے حوالے سے بھی کسی پاسداری کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں۔
قابض اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس نسل کشی سے قبل رفح کراسنگ سے روزانہ سینکڑوں فلسطینی معمول کے مطابق آتے جاتے تھے اور یہ گزرگاہ کسی بھی اسرائیلی مداخلت کے بغیر غزہ کی وزارت داخلہ اور مصری حکام کے زیر انتظام کام کرتی تھی۔
امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ غاصب اسرائیل نے سات اکتوبرسنہ 2023ء سے غزہ میں جو نسل کشی شروع کی وہ دو سال تک جاری رہی جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس وحشیانہ حملے میں غزہ کا 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
