نواکشوط – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) موریتانوی پارلیمنٹ کے درجنوں اراکین نے بدھ کی شام دارالحکومت نواکشوط میں قابض اسرائیل کی نام نہاد پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے ظالمانہ قانون کی منظوری کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔
موریتانوی ارکان پارلیمنٹ نے جن میں اپوزیشن اور حکومت نواز دونوں دھڑوں کے نمائندے شامل تھے کنیسٹ کے اس سیاہ قانون کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی کی۔
حکمراں جماعت انصاف پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد الامین اعمر نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اس احتجاج کا مقصد کنیسٹ کے منظور کردہ اس سفاکانہ قانون کی شدید مذمت کرنا ہے۔
انہوں نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کا یہ قانون غاصب صہیونی دشمن کی فطری مجرمانہ ذہنیت اور سفاکیت کا آئینہ دار ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رکن پارلیمنٹ محمد الامین سیدی مولود نے اس مذموم قدم پر موریتانی پارلیمنٹ کی جانب سے شدید بیزاری اور استنکار کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج موریتانی عوام نے اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس سنگین جرم کے خلاف ایک واضح پیغام ارسال کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں موریتانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی کنیست کے اس قانون کی پرزور مذمت کی ہے۔
اس حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر حکمراں انصاف پارٹی اور سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل ریلی فار ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ سمیت 31 سیاسی جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔
ان جماعتوں نے اس قانون کو ایک ایسا بدترین جرم قرار دیا ہے جو انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص اسیران کے تحفظ سے متعلق جنیوا کنونشنز کے سراسر منافی ہے۔
اعلامیہ میں عالمی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان خلاف ورزیوں کو روکنے سمیت ذمہ داروں کے کڑے احتساب کے لیے فوری حرکت میں آئیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ پیر کو کنیسٹ نے ایک انتہائی متنازعہ قانون منظور کیا ہے جس میں فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
اس مجرمانہ قانون کے تحت سزائے موت پر عملدرآمد پھانسی کے ذریعے کیا جائے گا جسے قابض اسرائیل کے محکمہ جیل خانہ جات کے مقرر کردہ جلاد سرانجام دیں گے اور ان جلادوں کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں مکمل قانونی تحفظ بھی حاصل ہو گا۔
قانون کی رو سے سزائے موت کے منتظر اسیران کو مخصوص حراستی مراکز میں رکھا جائے گا اور مجاز حکام کے علاوہ کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ وکلاء کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بھی صرف ویڈیو کالز تک محدود رکھی جائیں گی۔
یہ قانون اس حد تک غیر انسانی ہے کہ اس میں سزائے موت سنانے کے لیے استغاثہ کی درخواست کی ضرورت نہیں ہو گی اور نہ ہی ججوں کا اتفاق رائے لازمی ہے بلکہ محض سادہ اکثریت سے یہ فیصلہ کیا جا سکے گا۔
اس قانون کو خود غاصب ریاست کے اندر بھی تنقید کا سامنا ہے جہاں فروری سنہ 2024ء میں نوبل انعام یافتگان، سابق فوجی حکام اور سپریم کورٹ کے سابق ججوں سمیت تقریباً 1200 اسرائیلی شخصیات نے اسے ایک اخلاقی بدنما داغ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔
اس وقت قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 9500 سے زائد فلسطینی اسیر ہیں جن میں 350 بچے اور 73 خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ تمام اسیران بدترین تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کے باعث اب تک درجنوں اسیران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے غاصب صہیونی دشمن نے امریکہ کی بھرپور پشت پناہی کے ساتھ غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے ساتھ ساتھ فلسطینی اسیران کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اس وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور 172 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔
