Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسلامی ممالک کی سخت مذمت: فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کا قانون خطرناک اور امتیازی

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور انڈونیشیا سمیت متعدد اسلامی ممالک نے قابض اسرائیلی پارلیمنٹ کنيسٹ کی جانب سے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلامی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون کے علاقائی استحکام پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ اس موقع پر مغربی ممالک کے دوہرے معیار اور محدود بین الاقوامی تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نئی قانون سازی ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ قانون امتیازی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ سزائے موت کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے استثنیٰ دیتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ قانون موجودہ تناؤ کو ہوا دے گا اور خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلے گا جبکہ پہلے ہی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے۔ اسلامی ممالک نے متنبہ کیا کہ ایسی پالیسیاں ایک ایسے نظام کو تقویت دے رہی ہیں جو نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے قریب تر ہے اور جس کی بنیاد فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے انکار پر رکھی گئی ہے۔

کنيسٹ کی جانب سے منظور کردہ متن کے مطابق یہ قانون اس شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینے کی اجازت دیتا ہے جو قابض اسرائیل کے کسی شہری یا رہائشی کو نقصان پہنچانے اور ریاست کے وجود کو ضرب لگانے کی نیت سے جان بوجھ کر قتل کا مرتکب ہو۔ تاہم مقبوضہ مغربی کنارے میں اس کا اطلاق بالکل مختلف ہوگا جہاں قابض اسرائیل کی فوجی عدالتوں کی جانب سے کسی بھی کارروائی کو دہشت گردی قرار دیے جانے کی صورت میں سزائے موت ایک ترجیحی آپشن بن جائے گی۔

مبصرین کے مطابق یہ قانون ایک واضح قانونی دہرے معیار کو جنم دیتا ہے جہاں یہ فلسطینی کو اسرائیلی کے قتل کی صورت میں سزائے موت کی اجازت دیتا ہے جبکہ یہی اصول اسرائیلیوں پر لاگو نہیں ہوتا اگر وہ کسی فلسطینی کو قتل کریں کیونکہ فلسطینیوں کو فوجی عدالتوں اور آباد کاروں کو سول عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

اس قانون پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے بین الاقوامی اداروں نے بھی تنقید کی ہے اور انسانی حقوق پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے اس معاملے میں مداخلت کے بجائے اسے قابض اسرائیل کا خود مختار حق قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے اور قانون کے متن پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

مغربی ممالک کا یہ موقف ان کے اس شدید ردعمل کے بالکل برعکس ہے جو 9 اکتوبر سنہ 2023ء کو سامنے آیا تھا جب القسام بریگیڈز نے اسرائیلی قیدیوں کو مارنے کی دھمکی دی تھی تو ان ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے کر مذمت کی تھی۔

یہی روش سنہ 2025ء کے دوران بھی مغربی ممالک کے بیانات میں نظر آئی جہاں اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو لاحق کسی بھی خطرے کی مذمت کی گئی اور ان کے تحفظ اور رہائی پر زور دیا گیا مگر فلسطینی اسیران کی سزائے موت کے قانون پر خاموشی اختیار کی گئی۔

یہ تضاد مغربی معیارات کے دہرے پن کو ظاہر کرتا ہے جہاں اسرائیلی قیدیوں کے لیے کسی بھی خطرے کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے لیکن فلسطینی اسیران کی سزائے موت کی راہ ہموار کرنے والی اسرائیلی پالیسیوں پر نرمی برتی جاتی ہے۔

یہ سب کچھ مغربی کنارے کی اس تلخ قانونی حقیقت کے سائے میں ہو رہا ہے جہاں فلسطینیوں کو قابض صہیونی عقوبت خانوں اور فوجی عدالتوں کا سامنا ہے جبکہ اسرائیلی آباد کار سول قوانین کے تحفظ میں رہتے ہیں۔

اس سفاکانہ قانون میں یہ بھی درج ہے کہ حتمی فیصلہ آنے کے 90 دن کے اندر سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا سکے گا جبکہ اس میں 180 دن تک تاخیر کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan