Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیل کی کارروائی انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ، MSF

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈرنے قابض اسرائیل کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں تنظیم کے عملے اور فلسطینی مزاحمت کے عناصر کے درمیان تعلقات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یہ کھلے عام لگائے گئے الزامات کسی ثبوت کے بغیر ہیں اور ان کا مقصد تنظیم کی رجسٹریشن کو نئی اور غیر واضح شرائط کے تحت پابندیوں میں جکڑنا ہے۔

تنظیم نے جمعرات کو جاری بیان میں خبردار کیا کہ اس طرز عمل سے طبی عملہ شدید خطرات سے دوچار ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں ہزار فلسطینیوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولتوں سے محروم کیے جانے کا خدشہ ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب صحت کا نظام وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہے۔

ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈرنے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں کام کے لیے اپنی رجسٹریشن کی تجدید کی منتظر ہے جو 31 دسمبر 2025ء تک تھی اور یہ عمل نئی اسرائیلی شرائط کے مطابق ہونا ہے جن میں ملازمین کے ناموں کی فہرستیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

تنظیم کے مطابق کئی ماہ کے رابطے کے باوجود اسے نہ تو واضح معیارات فراہم کیے گئے اور نہ ہی کسی قسم کی ضمانتیں دی گئیں۔ تنظیم نے بتایا کہ 30 دسمبر 2025ء کو اسرائیلی حکام نے عوامی طور پر ایسے الزامات عائد کیے جن میں اس کے عملے اور مسلح گروہوں کے درمیان تعلقات کا دعویٰ کیا گیا۔

ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈر نے زور دیا کہ وہ ایسے الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس بات پر قائم ہے کہ وہ کبھی بھی جان بوجھ کر کسی ایسے فرد کو ملازمت نہیں دے گی جو عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ تنظیم نے کہا کہ بغیر ثابت شدہ شواہد کے عوامی الزامات انسانی شعبے میں کام کرنے والوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور زندگی بچانے والے طبی کام کو کمزور کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور بنیادی ڈھانچہ شدید نقصان سے دوچار ہے جبکہ خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ضرورت خدمات بڑھانے کی ہے نہ کہ انہیں محدود کرنے کی۔

ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈرنے واضح کیا کہ اگر اس کی رسائی ختم کر دی گئی اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی روکا گیا تو سینکڑوں ہزار فلسطینی بنیادی طبی نگہداشت سے محروم ہو جائیں گے۔

تنظیم نے بتایا کہ وہ اس وقت ہسپتالوں میں ہر پانچ میں سے ایک بستر کی معاونت کر رہی ہے اور غزہ میں ایک تہائی ولادتوں کی نگرانی کرتی ہے۔ سنہ 2025ء کے دوران تنظیم نے بیرونی مریضوں کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ طبی مشورے فراہم کیے، ایک لاکھ سے زائد شدید زخمیوں کا علاج کیا 22 ہزار 700 جراحی آپریشن انجام دیے 10 ہزار سے زیادہ ولادتوں میں معاونت کی اور تقریباً 700 ملین لیٹر پانی تقسیم کیا۔

ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈرنے ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ تنظیم رجسٹریشن کے قواعد کی پابندی نہیں کر رہی۔ تنظیم کے مطابق وہ جولائی 2025ء سے مکمل طور پر اس عمل میں شامل ہے اور مطلوبہ معلومات میں سے زیادہ تر فراہم کر چکی ہے اور قابض اسرائیل کے ساتھ مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ غزہ میں تباہ شدہ صحت کے نظام کی معاونت اور بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھ سکے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹرزو ود آؤٹ بارڈر نے 22 دسمبر 2025ء کو جاری ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے لیے قابض اسرائیل کے نئے قواعد کے نتیجے میں سنہ 2026ء تک غزہ میں دسیوں ہزار افراد زندگی بچانے والی طبی سہولتوں سے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ یکم جنوری سے ان تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کا خطرہ موجود ہے جس سے غزہ اور مغربی کنارے میں بنیادی خدمات کی فراہمی ممکن نہیں رہے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan