Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیل کی مغربی کنارے میں مزاحمتی سرگرمیوں میں 78 فیصد کمی کا دعویٰ

مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سنہ 2025ء کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اسی عرصے میں فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل مغربی کنارے کے شہروں، دیہات اور مہاجر کیمپوں پر مسلسل جارحیت، چھاپوں، گرفتاریوں، گھروں کی مسماری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

قابض اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق سنہ 2025ء میں جسے وہ فلسطینی ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیتی ہے اس کی شرح میں سنہ 2024ء کے مقابلے میں 78 فیصد کمی آئی۔ تاہم انہی اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ اکتوبر کے بعد پتھراؤ اور آتش گیر بوتلیں پھینکنے کے واقعات میں نسبتی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آتشیں اسلحہ کے استعمال سے متعلق واقعات میں تقریباً 86 فیصد کمی ہوئی، جبکہ پتھراؤ اور آتش گیر بوتلوں کے واقعات میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

انہی اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا کہ سنہ 2025ء کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 240 رہ گئی، جبکہ اس سے قبل سال میں یہ تعداد لگ بھگ 500 تھی۔ اس کے مقابلے میں قابض اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 35 سے کم ہو کر 20 تک آ گئی۔ دوسری جانب قابض فوج کی جانب سے گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ تعداد تقریباً 3500 تک پہنچ گئی۔

قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال کے دوران اس نے 1370 سے زائد اسلحہ کے ٹکڑے ضبط کیے اور جسے وہ ’’دہشت گردی کی رقوم‘‘ قرار دیتی ہے اس مد میں تقریباً 17 ملین شیکل ضبط کیے گئے۔ سکیورٹی نظام کے اندازوں کے مطابق گرین لائن کے اندر بغیر اجازت داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 50 سے 70 ہزار کے درمیان ہے، جبکہ ہر ہفتے ہزاروں مزید فلسطینی اندر داخل ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں قابض اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سنہ 2025ء کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے نام نہاد ’’نفرت انگیز جرائم‘‘ میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

قابض فوج کے مطابق ان حملوں میں ملوث نمایاں آبادکاروں کی تعداد تقریباً 300 ہے، جو غیر قانونی چوکیوں اور زرعی آبادکاریوں میں سرگرم ہیں اور دائیں بازو کے وزراء اور کنیسٹ کے ارکان کی سرپرستی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 شدت پسند آبادکار ایسے ہیں جو براہ راست تشدد کی قیادت کرتے ہیں۔ مرکزی کمانڈ کے افسران نے اس رجحان سے نمٹنے میں ’’مسلسل ناکامی‘‘ کا اعتراف بھی کیا ہے۔

اخبار ہارٹز نے منگل کے روز اعلیٰ قابض اسرائیلی افسران کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف قانون کے نفاذ میں سختی اور آبادکاروں کے تشدد کے مقابلے میں نرمی اور تاخیر کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ان افسران کا کہنا تھا کہ غزہ، لبنان، شام اور ایران کے محاذوں پر کشیدگی میں کسی بھی قسم کی کمی مغربی کنارے میں قابض فوج کے خلاف فلسطینی مسلح گروہوں کو دوبارہ محاذ آرائی پر آمادہ کر سکتی ہے۔

اسی پس منظر میں قابض اسرائیلی فوج کے عہدیداروں نے فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی سطح کو ’’غیر معمولی حد تک بلند‘‘ قرار دیا اور انہیں استحکام برقرار رکھنے میں ایک اہم شراکت دار بتایا۔ ان کے مطابق یہ ادارے فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والے اسرائیلیوں کو واپس کرتے ہیں، ضبط شدہ اسلحہ منتقل کرتے ہیں اور ممکنہ مزاحمتی کارروائیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

تاہم قابض فوج نے خبردار کیا کہ حتیٰ کہ قابض اسرائیلی قوانین کے مطابق بھی غیر منظور شدہ صہیونی چوکیوں میں توسیع اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملے فلسطینیوں کی جانب سے سکیورٹی تعاون جاری رکھنے کے رجحان کو منفی طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

اگرچہ دائیں بازو کے حلقے فلسطینی اتھارٹی کو حماس سے مختلف نہیں سمجھتے، لیکن قابض اسرائیلی فوج اس بات پر زور دیتی ہے کہ اگر یہ سکیورٹی تعاون موجود نہ ہوتا تو مغربی کنارے کی صورتحال ’’بالکل مختلف‘‘ ہوتی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan