بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت لبنانی ریاست کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر مکمل کاربند رہی جبکہ قابض اسرائیل نے اس کی کسی ایک شق کی بھی پاسداری نہیں کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس سفارتی راستے پر حزب اللہ نے اتفاق کیا تھا اس نے گذشتہ پندرہ ماہ کے دوران کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔
بدھ کی شام اپنے خطاب میں نعیم قاسم نے مزید کہا کہ حزب اللہ قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت پر محض اس لیے خاموش رہی تاکہ اس پر سفارتی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام نہ لگے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور اب صہیونی دشمن کی سرکشی اور حد سے تجاوز ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے قابض اسرائیل پر توسیع پسندانہ عزائم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان اور پورے خطے کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ نعیم قاسم نے اس ضمن میں بنجمن نیتن یاھو کے گریٹر اسرائیل سے متعلق بیانات کا بھی حوالہ دیا۔
نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کی جانب سے گذشتہ برس پانچ اور سات اگست کو لیے گئے فیصلوں پر کڑی تنقید کی اور انہیں ایک ایسی بڑی غلطی قرار دیا جس نے ریاست کی پوزیشن کو کمزور کیا اور ان کے بقول اسرائیلی جارحیت کو جواز فراہم کیا۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ میزائلوں کی حالیہ برسات دراصل اسرائیلی و امریکی جارحیت کا بھرپور جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی گذشتہ 15 ماہ کی مسلسل خلاف ورزیوں بشمول ایرانی مذہبی پیشوا علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میزائلوں کی پہلی کھیپ کا مقصد اس وہم کو ختم کرنا تھا کہ اگر دشمن کے خلاف خاموشی اختیار کی گئی تو وہ بھی خاموش رہے گا، جبکہ اس کے بعد ہونے والے اسرائیلی حملے کوئی جوابی کارروائی نہیں بلکہ پہلے سے تیار شدہ جارحیت کا حصہ ہیں۔
نعیم قاسم نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرتی اور مقابلے کے راستے تلاش کرتی، مگر اس کے بجائے اس نے مزاحمت کو نشانہ بنایا اور اسرائیلی مطالبات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی۔
واضح رہے کہ گذشتہ پیر سے قابض اسرائیل کے طیارے بقاع، جنوبی لبنان اور بیروت کی ضاحیہ جنوبی کے وسیع علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں اور املاک و بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں عروج پر ہے جب امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے ایران پر بھی عسکری حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
