(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے ہفتے کے روز ایک شہری اور ایک معصوم بچی کو شہید کر دیا، جب کہ مشرقی غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 27 سالہ شہری ہارون نمر اسعد بہار محلہ الشجاعیہ کے قریب مشرقی غزہ میں شہید ہو گئے۔
بعد ازاں شمال مغربی غزہ کی بلدہ بیت لاہیا میں قابض اسرائیلی افواج کی گولیوں سے 11 سالہ بچی فاطمہ نمر معروف شہید ہو گئی۔
ایک اور پیش رفت میں خان یونس کے مغرب میں ناصر ہسپتال کے اطراف قابض اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری کے پیٹ میں گولی لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔
اس سے قبل مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں میں تین فضائی حملے کیے، جب کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں نے شہر کے مشرقی حصوں پر شدید فائرنگ کی۔
قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلح کے مشرق میں بھی ایک فضائی حملہ کیا۔
غزہ شہر میں بھی قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
قابض اسرائیلی جنگی کشتیوں نے رفح شہر کے ساحل کے سامنے کھلے سمندر میں شدید فائرنگ کی۔
عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیلی طیاروں نے رفح شہر پر بھی فضائی حملہ کیا، جس کے ساتھ ہی شہر کے شمالی علاقوں میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔
گذشتہ رات غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے ایک طبی ذریعے نے بتایا کہ بیت لاہیا کے شمالی علاقے العطاطره میں قابض اسرائیلی فوج کی تعیناتی سے باہر بے گھر فلسطینیوں کے خیمے پر ایک اسرائیلی ڈرون کی جانب سے بم گرائے جانے کے نتیجے میں چار فلسطینی شدید زخمی ہو گئے، جن میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں، جس کے بعد اسی علاقے پر توپ خانے سے بھی گولہ باری کی گئی۔
یہ تمام حملے قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں۔ 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہونےوالے معاہدے میں خلاف ورزیوں کے نتیجے میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 424 سے زائد فلسطینی شہید اور تقریباً ایک ہزار دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
