تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل اور امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف اپنے حملوں میں شدت لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فوجی جارحیت جب تک ضرورت پڑی جاری رہے گی۔
یسرائیل کاٹز کے یہ بیانات ہفتے کی صبح صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں فوج کے نائب چیف آف اسٹاف تامیر یادای اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بینڈر اور وزارت جنگ کے ڈائریکٹر جنرل امیر بارام کے علاوہ کئی اعلیٰ سکیورٹی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس ہفتے قابض اسرائیلی فوج اور امریکی افواج کی جانب سے ایرانی حکومت اور ان کے زیر استعمال بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی فوج مضبوط ہے اور اسی طرح اندرونی محاذ بھی مستحکم ہے اور جب تک جنگ کے تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے ہم نہیں رکیں گے۔
بعد ازاں یسرائیل کاٹز ریشون لتسیون شہر پہنچے جہاں کئی مقامات پر ایرانی میزائلوں کے حصے گرے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 11 ایسے مقامات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
یہودیوں کے تہوار عید الفصح کے دوران فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تصدیق کی کہ لڑائی جب تک ضرورت پڑی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی محاذ کی مضبوطی ہی ہمیں اہداف کے حصول تک سلسلے کو جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران اب یورینیم کی افزودگی یا بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
بنجمن نیتن یاھو نے وضاحت کی کہ جنگ کے اہداف میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکارہ بنانا اور ایسے حالات پیدا کرنا شامل ہیں جن میں ایرانی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
