غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں گورنمنٹ میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ فروری کے آغاز سے 10 فروری تک مصر کے ساتھ متصل رفح کراسنگ کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی مجموعی تعداد محض 275 رہی، جبکہ اسی دوران 213 افراد غزہ واپس پہنچے اور 26 مسافروں کو قابض اسرائیل نے واپس بھیج کر انہیں سفر سے روک دیا۔
میڈیا آفس نے آج جاری کردہ ایک بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پیر 2 فروری کو صرف 20 مسافروں نے سفر کیا، جن میں 5 مریض اور 15 ان کے تیماردار شامل تھے، جبکہ 12 افراد غزہ واپس پہنچے جن میں 9 خواتین اور 3 بچے تھے۔
منگل 3 فروری کو 40 مسافروں نے سرحد پار کی جن میں 16 مریض اور 24 تیماردار تھے، جبکہ قابض اسرائیل نے 26 مسافروں کو سفر کرنے سے روک کر واپس بھیج دیا، اسی روز 26 افراد غزہ واپس آئے۔
بدھ 4 فروری کو 47 مسافروں نے سفر کیا جن میں 16 مریض اور 31 تیماردار شامل تھے، جبکہ 25 افراد کی غزہ واپسی ریکارڈ کی گئی۔
جمعرات 5 فروری کو 28 مسافر روانہ ہوئے جن میں 7 مریض اور 21 تیماردار تھے، جبکہ 25 افراد واپس آئے۔
اتوار 8 فروری کو 50 مسافروں نے سفر کیا جن میں 19 مریض اور 31 تیماردار شامل تھے، جبکہ 44 افراد غزہ واپس پہنچے۔
پیر 9 فروری کو 40 مسافر روانہ ہوئے جن میں 20 مریض اور 20 تیماردار تھے، جبکہ 40 افراد ہی کی واپسی ہوئی۔
منگل 10 فروری کو 50 مسافروں نے سرحد پار کی جن میں 19 مریض اور 31 تیماردار شامل تھے، جبکہ 41 افراد غزہ واپس آئے۔
میڈیا آفس نے واضح کیا کہ جمعہ اور ہفتہ (6 اور 7 فروری) کو کراسنگ مکمل طور پر بند رہی۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ اس پوری مدت کے دوران آمد و رفت کرنے والے مسافروں کی مجموعی تعداد ان 1,800 مسافروں کے مقابلے میں صرف 288 رہی جنہیں رفح کراسنگ کے ذریعے سفر کرنا تھا، جو کہ مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف 27 فیصد بنتی ہے۔
