Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی وزیر کے بیان نے سفارتی محاذ پر ہلچل مچا دی

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی انتہا پسند مذہبی صہیونی جماعت کے سربراہ اور وزیرِ خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے اور اس کے باشندوں کی جبری بے دخلی کا مطالبہ دہراتے ہوئے غاصبانہ عزائم کا برملا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے امریکی فوج کی جانب سے جنوبی قابض اسرائیل کے قصبہ کریات گات میں قائم کیے گئے امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

سموٹریچ کے یہ اشتعال انگیز بیانات مقبوضہ مغربی کنارے میں گوش عتصیون کے استعماری بلاک میں یاتسیف نامی نئی یہودی بستی کے قیام کے اعلان کی تقریب کے دوران سامنے آئے۔ اس موقع پر اس نے ان ممالک پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا جنہیں اس نے قابض اسرائیل کے دشمن قرار دیا اور مصر ،برطانیہ اور ترکیہ کو کریات گات میں امریکی کمانڈ کے صدر دفتر سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے ان ممالک پر قابض اسرائیل کی سکیورٹی کے خلاف سازشوں کا الزام بھی عائد کیا۔

قابض اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کو ایک مختصر الٹی میٹم دیا جائے تاکہ اسے مکمل طور پر توڑا جائے اور حقیقی معنوں میں جلا وطن کیا جائے ۔ غزہ پر پوری قوت سے ہمہ گیر حملہ کر کے حماس کو عسکری اور شہری دونوں سطحوں پر نیست و نابود کر دیا جائے۔

سموٹریچ نے غزہ کی پٹی کے انتظام سے متعلق نام نہاد ایگزیکٹو کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن ہی یحییٰ السنوار ہیں اور قطر ہی حماس ہے۔ اس کے بقول ان سب کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اشتعال انگیزی کے ایک اور خطرناک مرحلے میں سموٹریچ نے قابض حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یا تو ہم ہوں گے یا وہ۔ یا مکمل اسرائیلی کنٹرول ہوگا حماس کی مکمل تباہی ہوگی اور طویل عرصے تک نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جبر جاری رہے گا جس کے ساتھ دشمن کو بیرونِ ملک ہجرت پر آمادہ کیا جائے گا اور مستقل اسرائیلی آبادکاری قائم کی جائے گی یا پھر جنگ کی تمام کوششیں اور اس کی بھاری قیمت رائیگاں چلی جائے گی اور ہم اگلے مرحلے کا انتظار کریں گے۔

اس نے مزید کہا کہ وہ اللہ کے حکم سے جلد ہی غزہ کی پٹی کے اندر اسی نوعیت کی ایک اور تقریب میں شرکت کی امید رکھتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ یہ سب کچھ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں ہو اور راستے میں کسی سیاسی عدم استحکام کے بغیر انجام پائے۔

سموٹریچ نے رفح کراسنگ کو مصر کی منظوری کے ساتھ یا اس کے بغیر کھولنے کا بھی مطالبہ کیا اور غزہ کے باشندوں کو علاقہ چھوڑ کر کسی اور جگہ مستقبل تلاش کرنے کی اجازت دینے پر زور دیا۔ اس کے بقول وہاں وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی خطرہ نہ ہوں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan