Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی فوجی کا غزہ میں خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کا انکشاف

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک ایسے منظر نے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک قابض اسرائیلی فوجی سوشل میڈیا ایپلی کیشن “ٹک ٹاک” پر ایک امریکی یوٹیوبر جیف ڈیوڈسن کے ساتھ لائیو سٹریمنگ کے دوران نمودار ہوا اور غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے سنگین انکشافات کیے۔

مذکورہ فوجی نے جو اس وقت غزہ کی پٹی کے اندر قابض اسرائیلی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر خدمات انجام دے رہا ہے، ملبے کے ڈھیر بنے ایک ایسے علاقے سے گفتگو کی جہاں دور دور تک تباہی کے مہیب سائے تھے، اس نے سفاکانہ لہجے میں کہا کہ “حیران نہ ہوں، یہاں اب کوئی مکان باقی نہیں بچا، ہم نے سب کچھ زمین بوس کر دیا ہے”۔ یہ الفاظ ان رہائشی علاقوں کی اس تباہی کی عکاسی کر رہے تھے جو قابض دشمن کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔

جب گفتگو کے دوران یوٹیوبر نے یہ ریمارک دیا کہ یہ تمام مکانات قابض اسرائیلی افواج نے تباہ کیے ہیں، تو فوجی نے نہایت مختصر اور بے حسی سے جواب دیا: “ہاں”۔

عام شہریوں اور بچوں کے حوالے سے تکرار

گفتگو کے دوران جب عام شہریوں بالخصوص بچوں کی حالتِ زار کا تذکرہ ہوا، تو فوجی نے ایک بچے کی تصویر دکھائی جس نے مبینہ طور پر اسلحہ اٹھا رکھا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر اسے ایک گھر سے ملی ہے، اس طرح اس نے غزہ میں ہونے والی جھڑپوں کی نوعیت کے حوالے سے اپنے من گھڑت بیانیے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔

تاہم بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب یوٹیوبر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگی ماحول میں بچوں کی موجودگی انہیں نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ اس نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے ایک ایسا المناک رخ اختیار کر لیا ہے جو بعض کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے، لیکن بچوں کا وہاں ہونا کسی بھی صورت انہیں نقصان پہنچانے یا نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتا۔

سوشل میڈیا پر آگ لگا دینے والے سنگین جملے

اس لائیو نشریات کا سب سے ہولناک لمحہ وہ تھا جب اس سنگدل فوجی نے لرزہ خیز الفاظ ادا کیے۔ زیر گردش ویڈیو کے مطابق اس نے اعتراف کیا کہ “ہم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کیا”، اور پھر مزید درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: “اور ویسے پریشان نہ ہوں، ہم ان کی عصمت دری (ریپ) بھی کرتے ہیں”۔

ان بیانات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑا دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے ان انسانیت سوز مظالم کی “سنگین شہادت” قرار دیا ہے جن کا الزام قابض اسرائیلی فوج پر غزہ کی پٹی کے عام شہریوں کے خلاف تسلسل سے لگایا جا رہا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ کھلے عام اس طرح کی گفتگو میں فوجی کا اعتماد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ وہ کسی بھی عالمی سزا یا گرفت سے محفوظ رہے گا۔

سیاسی پشت پناہی اور سزا سے استثنیٰ کے الزامات

سوشل میڈیا صارفین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی زیر قیادت قابض اسرائیلی حکومت کو امریکہ اور متعدد مغربی ممالک کی جانب سے جو سیاسی حمایت حاصل ہے، وہی بین الاقوامی سطح پر احتساب کے فقدان کا اصل سبب ہے۔

دیگر مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت قانونی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جس میں اس طرح کی سفاکیت کی بار بار ہمت افزائی ہوتی ہے۔ دوسری جانب، اگرچہ قابض اسرائیل عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنا عکس بہتر بنانے کی کوششیں کرتا ہے، لیکن اس طرح کی ویڈیوز ان تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں اور غزہ کی پٹی میں اس کی افواج کے جنگی جرائم پر دوبارہ عالمی توجہ مبذول کرا دیتی ہیں۔

ایسے جرائم جو کبھی ختم نہیں ہوتے

قانونی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر رائد ابو بدویہ نے کہا کہ ان بیانات کی سنگینی اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ یہ ان افعال کا علانیہ اعتراف ہے جو خطرناک ترین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانا سنہ 1949 کے جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ کارروائیاں شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر یا منظم حملے کے طور پر کی گئیں تو یہ عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ذمہ داری صرف براہ راست جرم کرنے والے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ “قیادت کی ذمہ داری” کے اصول کے تحت ان فوجی اور سیاسی رہنماؤں تک بھی پھیل جاتی ہے جو ان افعال کے بارے میں جانتے تھے یا انہیں علم ہونا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے انہیں روکنے یا مجرموں کو سزا دینے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

اب سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں تاکہ ممکنہ جرائم کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جا سکے اور سزا سے بچ نکلنے کے اس سلسلے کو روکا جا سکے جس نے کارکنوں کے بقول ایسی سفاکیت کو جنم دیا ہے۔

رام اللہ –

ایک ایسے منظر نے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک قابض اسرائیلی فوجی سوشل میڈیا ایپلی کیشن “ٹک ٹاک” پر ایک امریکی یوٹیوبر جیف ڈیوڈسن کے ساتھ لائیو سٹریمنگ کے دوران نمودار ہوا اور غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے سنگین انکشافات کیے۔

مذکورہ فوجی نے جو اس وقت غزہ کی پٹی کے اندر قابض اسرائیلی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر خدمات انجام دے رہا ہے، ملبے کے ڈھیر بنے ایک ایسے علاقے سے گفتگو کی جہاں دور دور تک تباہی کے مہیب سائے تھے، اس نے سفاکانہ لہجے میں کہا کہ “حیران نہ ہوں، یہاں اب کوئی مکان باقی نہیں بچا، ہم نے سب کچھ زمین بوس کر دیا ہے”۔ یہ الفاظ ان رہائشی علاقوں کی اس تباہی کی عکاسی کر رہے تھے جو قابض دشمن کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔

جب گفتگو کے دوران یوٹیوبر نے یہ ریمارک دیا کہ یہ تمام مکانات قابض اسرائیلی افواج نے تباہ کیے ہیں، تو فوجی نے نہایت مختصر اور بے حسی سے جواب دیا: “ہاں”۔

عام شہریوں اور بچوں کے حوالے سے تکرار

گفتگو کے دوران جب عام شہریوں بالخصوص بچوں کی حالتِ زار کا تذکرہ ہوا، تو فوجی نے ایک بچے کی تصویر دکھائی جس نے مبینہ طور پر اسلحہ اٹھا رکھا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر اسے ایک گھر سے ملی ہے، اس طرح اس نے غزہ میں ہونے والی جھڑپوں کی نوعیت کے حوالے سے اپنے من گھڑت بیانیے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔

تاہم بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب یوٹیوبر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگی ماحول میں بچوں کی موجودگی انہیں نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ اس نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے ایک ایسا المناک رخ اختیار کر لیا ہے جو بعض کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے، لیکن بچوں کا وہاں ہونا کسی بھی صورت انہیں نقصان پہنچانے یا نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتا۔

سوشل میڈیا پر آگ لگا دینے والے سنگین جملے

اس لائیو نشریات کا سب سے ہولناک لمحہ وہ تھا جب اس سنگدل فوجی نے لرزہ خیز الفاظ ادا کیے۔ زیر گردش ویڈیو کے مطابق اس نے اعتراف کیا کہ “ہم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کیا”، اور پھر مزید درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: “اور ویسے پریشان نہ ہوں، ہم ان کی عصمت دری (ریپ) بھی کرتے ہیں”۔

ان بیانات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑا دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے ان انسانیت سوز مظالم کی “سنگین شہادت” قرار دیا ہے جن کا الزام قابض اسرائیلی فوج پر غزہ کی پٹی کے عام شہریوں کے خلاف تسلسل سے لگایا جا رہا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ کھلے عام اس طرح کی گفتگو میں فوجی کا اعتماد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ وہ کسی بھی عالمی سزا یا گرفت سے محفوظ رہے گا۔

سیاسی پشت پناہی اور سزا سے استثنیٰ کے الزامات

سوشل میڈیا صارفین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی زیر قیادت قابض اسرائیلی حکومت کو امریکہ اور متعدد مغربی ممالک کی جانب سے جو سیاسی حمایت حاصل ہے، وہی بین الاقوامی سطح پر احتساب کے فقدان کا اصل سبب ہے۔

دیگر مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت قانونی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جس میں اس طرح کی سفاکیت کی بار بار ہمت افزائی ہوتی ہے۔ دوسری جانب، اگرچہ قابض اسرائیل عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنا عکس بہتر بنانے کی کوششیں کرتا ہے، لیکن اس طرح کی ویڈیوز ان تمام کوششوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں اور غزہ کی پٹی میں اس کی افواج کے جنگی جرائم پر دوبارہ عالمی توجہ مبذول کرا دیتی ہیں۔

ایسے جرائم جو کبھی ختم نہیں ہوتے

قانونی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر رائد ابو بدویہ نے کہا کہ ان بیانات کی سنگینی اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ یہ ان افعال کا علانیہ اعتراف ہے جو خطرناک ترین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانا سنہ 1949 کے جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ کارروائیاں شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر یا منظم حملے کے طور پر کی گئیں تو یہ عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانونی ذمہ داری صرف براہ راست جرم کرنے والے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ “قیادت کی ذمہ داری” کے اصول کے تحت ان فوجی اور سیاسی رہنماؤں تک بھی پھیل جاتی ہے جو ان افعال کے بارے میں جانتے تھے یا انہیں علم ہونا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے انہیں روکنے یا مجرموں کو سزا دینے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

اب سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں تاکہ ممکنہ جرائم کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جا سکے اور سزا سے بچ نکلنے کے اس سلسلے کو روکا جا سکے جس نے کارکنوں کے بقول ایسی سفاکیت کو جنم دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan