Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی فائرنگ میں فلسطینی شہریوں کی شہادت، غزہ میں امن معاہدے پر سوالیہ نشان

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور آج بدھ کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں میدانی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

مقامی ذرائع نے طلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے جنوبی علاقے ارض اللیمون میں غاصب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

نام نگاروں کے مطابق منگل کی شام غزہ شہر میں غاصب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 67 سالہ معمر فلسطینی احمد علی الحرازین شہید ہو گئے۔

اس سے قبل مقامی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع قصبے بیت لاہیا کے علاقے تل الذہب میں غاصب اسرائیل کی بمباری سے دو شہری شہید ہو گئے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قطاع کے جنوب میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں سے غاصب اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی رفح شہر کی جانب بھی فائرنگ کی گئی۔

اسی دوران ایک اور کارروائی میں غاصب اسرائیلی توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع حی التفاح پر کئی گولے داغے جبکہ شہر کے دیگر مشرقی محلوں اور علاقوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔

متعلقہ تناظر میں گذشتہ روز پیر کو غزہ شہر کے مشرق میں واقع حی الشجاعیہ میں غاصب اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے متعدد شہری زخمی ہوئے جبکہ قطاع کے دیگر کئی حصوں میں بھی حملے کیے گئے۔

یہ وحشیانہ جارحیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطاع کے مکین انتہائی سنگین انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ گذشتہ رات ہونے والی موسلا دھار بارش نے بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو ڈبو دیا جس سے ان کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

رفح گورنری میں شہری دفاع نے آج صبح اعلان کیا کہ ان کے عملے کو گذشتہ رات شدید بارش کی وجہ سے بے گھر افراد کے خیمے ڈوبنے پر امداد کی کئی کالز موصول ہوئیں۔

امدادی ٹیمیں پٹی کے جنوب میں خان یونس کے علاقے مواصی میں متاثرہ خاندانوں کو بچانے میں کامیاب رہیں۔

غزہ بلدیہ نے منگل کی صبح بتایا کہ حالیہ موسمیاتی دباؤ کے نتیجے میں بارش کا پانی سینکڑوں خیموں میں داخل ہونے کے بعد انہیں دہائیوں دہائیاں استغاثہ کی کالز موصول ہوئیں۔

بلدیہ نے تصدیق کی کہ موسلا دھار بارش نے بے گھر افراد کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے جبکہ ہنگامی ٹیمیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

دوسری جانب خان یونس بلدیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں نے غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کی نزاکت کو بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ خیموں اور انسانی امداد کی فراہمی میں شدید سستی برتی جا رہی ہے۔

بلدیہ نے واضح کیا کہ غزہ کو بڑی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے اور مقامی ادارے شہریوں کی مدد کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجودہ آلات اور مشینری کی کمی کے باعث ایک حقیقی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گیارہ اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی کل تعداد 615 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,651 تک جا پہنچی ہے اور اس کے علاوہ ملبے سے 726 لاشیں نکالی گئی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan