غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں گذشتہ آدھی رات کو سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے دوران قابض اسرائیلی افواج کی اندھادھند فائرنگ سے زخمی ہونے والی ایک فلسطینی دوشیزہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 19 سالہ فلسطینی لڑکی روان فیاض قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے وسطی غزہ میں واقع مغازی کیمپ کے مشرقی سمت سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گئیں۔
غاصب دشمن کی فوجی گاڑیوں نے وسطی غزہ کے علاقے بوریج کیمپ کے مشرق اور غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس کے مشرقی علاقوں میں بھی شدید فائرنگ کی۔
دریں اثنا قابض اسرائیل کے توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح شہر کے شمالی حصوں پر گولہ باری کی جبکہ اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے مواصی رفح میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو بھی اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
قابض اسرائیلی افواج گذشتہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور تہیہ کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں توپ خانے اور فضائیہ کی بمباری، فوجی گاڑیوں اور بحری بیڑوں سے فائرنگ کے ساتھ ساتھ غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں اور تنصیبات کو بارود سے اڑانے کی سفاکانہ کارروائیاں شامل ہیں۔
معاہدے کے بعد سے ہونے والی ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 714 شہری شہید اور 1,940 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ملبے کے نیچے سے 756 شہدا کے جسد خاکی نکالے گئے ہیں۔
وزارت صحت کے جاری کردہ مجموعی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین نسل کشی اور جارحیت کے نتیجے میں شہدا کی کل تعداد 72,289 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 172,040 ریکارڈ کی گئی ہے۔
