Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی جیل سے رہا فلسطینی صحافی مجاہد بنی مفلح کی حالت نازک

نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والے اسیر صحافی مجاہد بنی مفلح دماغ میں شریان پھٹنے کے باعث ہونے والے شدید دماغی ہیمرج کے نتیجے میں دماغ کی ایک نہایت حساس اور پیچیدہ جراحی کے لیے ہسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

ان کے بھائی نے تصدیق کی ہے کہ جراحی کامیاب رہی تاہم مجاہد اس وقت سخت طبی نگرانی میں کومہ کی حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیلی جیلوں سے مجاہد کی رہائی کو ابھی صرف تین دن ہی گزرے تھے اور اسیر رہائی کے لمحے سے ہی شدید سانس کی تنگی میں مبتلا تھے۔ ان کے مطابق بلڈ پریشر میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث دماغی ہیمرج ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل نے مجاہد کو گذشتہ سال کے وسط میں گرفتار کیا تھا اور دورانِ قید انہیں کسی قسم کی مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی حالانکہ وہ پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض تھے اور گرفتاری سے قبل باقاعدگی سے علاج کروا رہے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مناسب اور کافی خوراک سے بھی محروم رکھا گیا۔

ادھر کلب برائے اسیران فلسطین نے بلدیہ بیتا جنوب نابلس سے تعلق رکھنے والے صحافی مجاہد بنی مفلح کی سنگین طبی حالت کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قابض اسرائیل کی حکومت پر عائد کی ہے۔ کلب نے واضح کیا کہ مجاہد کو اس حالت میں رہا کیا گیا جب وہ تشدد ،طبی جرائم اور بھوک کے اثرات جھیل رہے تھے۔

کلب برائے اسیران نے اپنے بیان میں کہا کہ رہائی کے محض تین دن بعد مجاہد کو شدید طبی عارضے کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث دماغ میں فوری جراحی ناگزیر ہو گئی۔ کلب نے زور دیا کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ قابض اسرائیلی جیل نظام میں جاری منظم جرائم کا تسلسل ہے۔

کلب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کش جنگ کے آغاز کے بعد سے قابض اسرائیل کی جیلیں سست روی سے قتل کے مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں جہاں منظم تشدد طبی جرائم اور اجتماعی انتقامی پالیسیاں نافذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر رہا ہونے والے اسیران جسمانی اور نفسیاتی طور پر تباہ حال حالت میں جیلوں سے باہر آتے ہیں۔

اسی تناظر میں فلسطینی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مجاہد بنی مفلح کی بگڑتی صحت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے چند ہی دنوں میں اس حالت تک پہنچنے پر صدمے کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں جاری تشدد اور دانستہ طبی غفلت کی اصل تصویر ہے۔

صحافی صہیب العصا نے لکھا کہ بنی مفلح تشدد کے نتیجے میں جسم کے ہر حصے میں گہرے زخموں کے ساتھ جیل سے باہر آئے اور انہیں اپنی ادویات لینے سے بھی روکا گیا۔

کارکنوں نے کہا کہ مجاہد بنی مفلح کا معاملہ اس تلخ حقیقت کی ایک اور گواہی ہے کہ رہائی کا مطلب نجات نہیں ہوتا کیونکہ جیل کے اثرات اسیران کا پیچھا رہائی کے بعد بھی کرتے رہتے ہیں جو قابض اسرائیل کی جیلوں میں جاری طبی غفلت کا براہ راست نتیجہ ہے۔

کلب برائے اسیران نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صحافی ماضی میں بھی اور آج بھی سب سے زیادہ نشانہ بننے والے طبقوں میں شامل ہیں۔ ان کے خلاف انتقامی اور منظم گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ براہ راست قتل کی کارروائیاں بھی کی گئیں جو جاری نسل کش جنگ کے دوران عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ کلب کے مطابق جارحیت کے آغاز سے اب تک صحافیوں کی گرفتاری کے 217 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan