غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آج سات جنوری فلسطینی یوم شہداء کی یاد منائی جا رہی ہے، یہ وہ دن ہے جسے ہر سال ہمارے عوام اپنے عظیم شہداء کی یاد میں مناتے ہیں، جنہوں نے فلسطین اور اس کی عزت و وقار کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
فلسطینی دفتر اطلاعات اسیران نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ گذشتہ دو برسوں کے دوران خون کے ایسے سیلاب سے گزرا ہے جس کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس گورنری کے شہروں نے بھی سیکڑوں شہداء قربان کیے، اس موقع پر ہم اسیر قومی تحریک کے ان شہداء کو بھی یاد کرتے ہیں جو تشدد اور سست موت کی پالیسی کے تحت شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔
دفتر نے دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا کہ سنہ 1967ء سے اب تک قابض اسرائیل کی جیلوں میں 323 فلسطینی اسیر شہید ہو چکے ہیں، جن میں 86 اسیر غزہ پر نسل کش جنگ کے آغاز کے بعد اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل کی جیلوں میں شہید کیے گئے، یہ اسیران کے خلاف جرائم میں ایک بے مثال اور خطرناک اضافہ ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے ہماری جیلوں میں قید بہادر اسیران کے خلاف کیے گئے جرائم کبھی بھی فراموش نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی وقت گزرنے سے یہ جرائم ختم ہوں گے، ہم ان کے حقوق اور ان کے پاکیزہ خون کے ساتھ وفادار رہیں گے۔
دفتر اطلاعات اسیران نے کہا کہ ہم اسیران کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے سے تھکیں گے اور نہ ہی ہمت ہاریں گے، بین الاقوامی علاقائی اور مقامی ہر محاذ پر آواز بلند کی جائے گی اور ہر دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا تاکہ منظم جرائم کا سلسلہ روکا جا سکے اور اسیران کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
بیان میں عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیموں بالخصوص ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسیران کے حالات کا فوری جائزہ لیں اور ان کی اذیت ناک تکالیف کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
اسی طرح فلسطینی سرکاری سطح سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے پاس موجود شہادتوں اور دستاویزات کی بنیاد پر قابض اسرائیل کے ان گھناؤنے جرائم کو عالمی فوجداری عدالت میں لے جائے، جن میں اسیران کے ساتھ جنسی زیادتی تشدد اور دیگر سنگین مظالم شامل ہیں، تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
