Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی جارحیت نے فلسطینی محنت کشوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی جنرل فیڈریشن آف لیبر یونینز نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوران گذشتہ دو برس میں فلسطینی مزدوروں کو قابض اسرائیل کے اندر روزگار سے محرومی کے باعث تقریباً 9 ارب ڈالر کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ اس عرصے میں مزدوروں کو جانی نقصانات، زخمی ہونے اور گرفتاریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس وقت جب وہ اپنے کام کی جگہوں پر واپس جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ بات فیڈریشن کی جانب سے فلسطینی مزدوروں کی سنہ 2025ء کی صورتحال پر جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں سامنے آئی، جس کا خلاصہ فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل شاہر سعد نے گذشتہ روز پیر کو شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس میں فیڈریشن کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا، جیسا کہ جاری کردہ بیان میں بتایا گیا۔

شاہر سعد نے خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق کہا کہ قابض اسرائیل کی دو سالہ جنگ کے دوران فلسطینی مزدوروں کے مجموعی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ کر تقریباً 38 فیصد تک جا پہنچی ہے کیونکہ فلسطینی افرادی قوت کے 1.4 ملین افراد میں سے لگ بھگ 5 لاکھ 50 ہزار مزدور کام سے محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تاریخی طور پر قابض اسرائیل فلسطینی افرادی قوت کے تقریباً 25 فیصد پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اس نے مزدوروں کے خلاف اپنی جابرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں میں غیر معمولی شدت پیدا کر دی ہے۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025ء کے اختتام تک قابض اسرائیل کے ہاتھوں براہ راست نشانہ بننے، گرفتاریوں یا تعاقب کے نتیجے میں 47 فلسطینی مزدور شہید ہوئے، جبکہ مزدوروں کی نقل و حرکت کے دوران چیک پوسٹوں سے گزرنے یا دیوار عبور کرنے کی کوشش میں 35 ہزار سے زائد گرفتاریوں اور 1500 سے زیادہ زخمی ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

شاہر سعد نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل کی حکومت نے اردن سے آنے والے ایک بین الاقوامی مزدور وفد کو مغربی کنارے میں داخل ہونے سے روک دیا، جسے انہوں نے فلسطینی مزدوروں کے حق میں بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا تسلسل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعمیراتی یونین کے سیکریٹری جنرل ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جو قابض اسرائیل کی حکومت کے خلاف عالمی ادارہ محنت میں تقریباً 2 لاکھ فلسطینی مزدوروں کے حقوق کے لیے مقدمہ دائر کرنے میں پیش پیش ہیں۔ یہ وہ مزدور ہیں جنہیں اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد قابض اسرائیل میں اپنے کام کی جگہوں پر واپس جانے سے روک دیا گیا۔

ادھر مغربی کنارے میں دیوار اور آبادکاری کے خلاف مزاحمتی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج اور صہیونی آبادکاروں نے گذشتہ ماہ جنوری میں فلسطینیوں اور ان کی زمینوں پر 1872 حملے کیے، جو منظم دہشت گردی کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔

کمیشن نے بتایا کہ ان میں سے 1404 حملے قابض اسرائیل کی فوج نے جبکہ 468 حملے صہیونی آبادکاروں نے کیے۔ ان حملوں میں جسمانی تشدد، درختوں کی جڑیں اکھاڑنا، کھیتوں کو نذر آتش کرنا، کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنا، املاک پر قبضہ اور گھروں اور زرعی تنصیبات کی مسماری شامل ہے، جبکہ وسیع فلسطینی اراضی کو نام نہاد سکیورٹی کے بہانے بند کر کے آبادکاروں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

غزہ پر قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ جو 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہوئی، کے دو برس کے دوران تقریباً 72 ہزار فلسطینی شہید اور 171 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد تباہ ہو چکا ہے۔ اسی عرصے میں مغربی کنارے میں کم از کم 1110 فلسطینی شہید کیے گئے، جن میں 230 بچے شامل ہیں، جبکہ 11 ہزار 500 سے زائد افراد زخمی اور 21 ہزار سے زیادہ فلسطینی گرفتار کیے گئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan