(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوب اور مشرق میں متعدد فضائی حملے کیے، چار دیہات کو خالی کرنے کے انتباہ کے بعد ان پر شدید بمباری کی ہے جسے جنگ بندی کی خوفناک خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنانی ذرائع کے مطابق، قابض اسرائیل نے جزین ضلع کے جنوب میں واقع دیہہ انان اور مشرقی لبنان میں بقاع میں واقع دیہات عين التينة اور المنارہ پر چار فضائی حملے کیے۔
قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے لبنان میں حماس اور حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے پہلےآج پیر کے روز قابض اسرائیل کی فوج کے ترجمان نے لبنان کے مشرق اور جنوب میں چار دیہات کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ایک رہنما نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں اور حملوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
رہنما نے صحافیوں کو بتایا کہ “قابض اسرائیل کی کوششیں اپنے مفادات کے مطابق کشیدگی کے نئے معادلات تھوپنے کی ناکام رہیں گی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل جھوٹے بہانے تراشتا ہے تاکہ فلسطینی عوام پر غزہ اور لبنان میں بار بار جارحیت کو جواز فراہم کر سکے۔
رہنما نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل کے دعوے کہ لبنان میں مزاحمتی گروپوں کی فوجی موجودگی ہے، محض بہانے ہیں تاکہ اس کی سفاکانہ جارحیت کو درست ثابت کیا جا سکے۔
قابض اسرائیل اور لبنان سنہ 2024ء میں امریکہ کے ثالثی کردار سے جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے تاکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے، مگر اس کے بعد سے اسرائیل روزانہ بنیادوں پر فضائی حملے کر کے اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسی طرح قابض اسرائیلی فوج غزہ میں دس اکتوبرسنہ 2023ء سے نافذ جنگ بندی کی بھی بار بار خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں 422 سے زائد فلسطینی شہید اور 1180 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
