استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تُرک سماجی کارکنوں اور کازِ فلسطین سے وابستہ ہمدردوں نے استنبول میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد قابض اسرائیل کی کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری اور غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کرنا تھا۔ فلسطین سپورٹ پلیٹ فارم کی کال پر منعقد ہونے والا یہ مظاہرہ باغجلار سکوائر سے شروع ہوا، جس میں شرکاء نے غزہ، لبنان اور ایران پر قابض اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے کنیسٹ کی جانب سے منظور کیے گئے اس قانون کی سخت مذمت کی جس کے تحت فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کی راہ ہموار کی گئی ہے، اور اسے انسانی حقوق کی بدترین پامالی قرار دیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پلیٹ فارم کے سربراہ عثمان نوری قباق تبه نے کہا کہ ہم ان شاء اللہ آزاد القدس میں نماز جمعہ ادا کریں گے، انہوں نے زور دیا کہ ہم بچوں اور خواتین کے قتل عام اور فلسطین پر غاصبانہ قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
عثمان نوری نے واضح کیا کہ ترکیہ کے عوام فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کرتے، انہوں نے عالمی سطح پر انصاف اور استحکام کا مطالبہ کیا۔ قابض اسرائیل کی کنیسٹ نے حال ہی میں اس مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ان فلسطینی اسیران کو سزائے موت دی جائے گی جن پر قتل کا الزام ثابت ہو گا، اور اس میں کسی بھی قسم کی معافی کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت 9600 سے زائد فلسطینی اسیران قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جن میں سینکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان اسیران کو تشدد، بھوکا رکھنے اور طبی غفلت جیسی انسانیت سوز صورتحال کا سامنا ہے، جو غاصب دشمن کی منظم سفاکیت کا حصہ ہے۔
