Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

ابوعبیدہ کا جسدِ مبارک لاپتہ، غزہ میں بمباری کی شدت نے جسم خاک میں تحلیل کر دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس ‘القسام بریگیڈز کے ایک عسکری ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کے جسدِ مبارک کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ابوعبیدہ کو ان کے خاندان کے متعدد افراد سمیت قابض اسرائیل نے ایک شدید بمباری کے ذریعے نشانہ بنایا تھا اور دھماکے کی شدت اتنی ہولناک تھی کہ جسدِ مبارک کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہا۔

الجزیرہ نیٹ پر غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کے دوران شہداء کے جسد خاکی کے”بخارات بن کر اڑ جانے” کے ہولناک مظاہرے پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں عسکری ذریعے نے مزید بتایا کہ جس جگہ ابوعبیدہ موجود تھے وہاں براہِ راست چھ بم گرائے گئے جس نے ان کے جسم کا کوئی اثر باقی نہیں چھوڑا۔

مزاحمت کے ترجمان کا جسم بخارات بن کر اڑ جانے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے اندازوں کے مطابق اب تک 3000 سے زائد غزہ باسیوں کے جسد اسی طرح غائب ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں دھماکہ خیز مواد کے ایک ماہر انجینئر کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے جنگ کے ابتدائی ہفتوں سے ہی ان مقامات کا معائنہ کیا ہے جہاں جسد کے مکمل غائب ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

اس ماہر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر الجزیرہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات پر اہل خانہ کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی پراسرار معمہ نہیں ہے بلکہ یہ مخصوص اقسام کے ان بموں کا براہِ راست نتیجہ ہے جو شدید ترین تپش اور دباؤ پیدا کرتے ہیں۔

ذریعے نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں امریکہ کے تیار کردہ بنکر بسٹر بم MK-84 اور BLU-109 کے ساتھ ساتھ GBU-31، GBU-32، GBU-38 اور GBU-39 جیسے گائیڈڈ بم استعمال کیے ہیں۔ یہ اسلحہ بنیادی طور پر مضبوط عسکری ٹھکانوں، سرنگوں اور بڑی کنکریٹ کی عمارتوں کو تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنانے کے لیے۔

دھماکہ خیز مواد کے ماہر کا کہنا ہے کہ ایک نہتے انسان کو قتل کرنے کے لیے آدھ کلو گرام بارود بھی کافی ہوتا ہے لیکن ان حملوں میں استعمال ہونے والے بموں میں 250 کلو گرام یا اس سے بھی زیادہ مقدار میں بارود ہوتا ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ جب یہ بم کسی رہائشی اپارٹمنٹ یا چھوٹے گھر پر گرتے ہیں تو ٹریٹونال (Tritonal) اور PBX جیسے بارودی مواد کا آمیزہ اور المونیم پاؤڈر مل کر 3000 سے 5000 ڈگری سینٹی گریڈ تک تپش اور ہولناک دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دھماکے کے مرکز کے قریب موجود انسانی جسم راکھ یا انتہائی باریک ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے جبکہ چند میٹر کے فاصلے پر موجود افراد کے جسم اس بری طرح چھلنی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کی شناخت یا باقیات کا ملنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسد خاکی کا غائب ہونا ان مہلک ہتھیاروں کا براہِ راست نتیجہ ہے جو انسان کو مٹی کے ذرات کی طرح غبار بنا دیتے ہیں۔

نو فروری سنہ 2026ء کو الجزیرہ کے پروگرام للقصہ بقیہ (کہانی ابھی باقی ہے) میں بھی اس ہولناک مظاہرے پر ایک دستاویزی رپورٹ نشر کی گئی تھی جس میں دل دہلا دینے والے انسانی قصے بیان کیے گئے تھے۔

اپریل سنہ 2024ء میں یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے بھی اس مسئلے پر روشنی ڈالی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کی تحقیقات کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے کیونکہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری نسل کشی کی اس جنگ میں ایسے بم استعمال کیے جانے کے قوی امکانات ہیں جو شدید تپش پیدا کر کے متاثرین کے اجسام کو بخارات بنا دیتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan