(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کی بازیابی کے عمل میں نمایاں اور سنجیدہ کوششیں کیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل مسلسل فلسطینی مزاحمت کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی ران گویلی کی لاش ملنے اور اسے واپس لے جانے کے اعلان کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ ایکسیس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حماس نے آخری اسرائیلی قیدی کی باقیات کے مقام کی نشاندہی میں مدد فراہم کی اور اس کی لاش کی بازیابی کے لیے بڑی کوششیں کیں۔
حماس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ لاش کی تلاش اور شناخت کا عمل انتہائی مشکل تھا کیونکہ تلاش کرنے والی ٹیموں کو علاقے میں موجود سیکڑوں لاشوں کا معائنہ کرنا پڑا۔ انہوں نے اس منظر کو نہایت کٹھن اور دل دہلا دینے والا قرار دیا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اسرائیلی میڈیا میں جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارنزک میڈیسن کی جانب سے شناختی مراحل مکمل ہونے کے بعد قابض اسرائیلی پولیس اور فوجی ربائنیٹ کے تعاون سے اسیر ران گویلی کے اہل خانہ کو لاش کی شناخت اور تدفین کے لیے حوالگی کی اطلاع دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ یونٹ یسام سے تعلق رکھنے والا سارجنٹ چوبیس سالہ ران گو یلی سات اکتوبر سنہ 2023ء کی صبح لڑائی کے دوران ہلاک ہوا تھا جس کے بعد اس کی لاش کو غزہ کی پٹی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ دعویٰ قابض اسرائیل کی فوج کے انٹیلی جنس ذرائع کی معلومات پر مبنی بتایا گیا۔
قابض اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ غویلی کی باقیات ملنے کے بعد غزہ کی پٹی سے تمام اسرائیلی اسیران کی لاشیں واپس لائی جا چکی ہیں۔
اس سے قبل القسام بریگیڈز کے سرکاری ترجمان ابو عبیدہ نے ٹیلیگرام پر جاری بیانات میں واضح کیا تھا کہ القسام بریگیڈز نے اسرائیلی قیدی گویلی کی لاش کے مقام سے متعلق تمام دستیاب تفصیلات اور معلومات ثالثوں کو فراہم کر دی تھیں۔
ابو عبیدہ نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کا کسی مخصوص مقام پر تلاش کا آغاز دراصل انہی معلومات کی بنیاد پر ہوا جو القسام بریگیڈز نے ثالثوں کو فراہم کیں تھیں اور یہ مزاحمت کے مؤقف کی صداقت کا واضح ثبوت ہے۔
غزہ کی پٹی میں دس اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے فلسطینی مزاحمت نے معاہدے کی شقوں کی پاسداری کرتے ہوئے زندہ اور ہلاک اسرائیلی اسیران کو مرحلہ وار ریڈ کراس کے ذریعے حوالے کیا جبکہ اس کے برعکس قابض اسرائیل نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔
