مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی گاؤں مخماس میں قابض اسرائیلی آباد کاروں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 19 سالہ نوجوان نصر اللہ محمد ابو صيام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شام کے وقت جامِ شہادت نوش کر گیا۔
فلسطینی وزارت صحت نے نوجوان ابو صيام کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک انتہا پسند آباد کار کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا تھا جسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
اس سے قبل بدھ کی سہ پہر مسلح آباد کاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں مخماس گاؤں پر دھاوا بولا اور فوج کی موجودگی میں شہریوں کی درجنوں بھیڑیں چوری کر لیں۔ اس حملے کے دوران آباد کاروں نے فائرنگ کر کے شہید ابو صيام سمیت پانچ شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور یہ صورتحال اس وقت مزید خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے جب سے قابض اسرائیل کی کابینہ “کابینیٹ” نے ان فیصلوں کی منظوری دی ہے جن کا مقصد مغربی کنارے میں زمینوں کے انتظام اور رجسٹریشن میں بڑی تبدیلیاں لا کر الحاق کے منصوبوں کو گہرا کرنا ہے۔
فلسطینی مرکزی بیورو برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک 17 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ سات اکتوبر سنہ 2023 ءسے اب تک قابض اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 1115 فلسطینیوں کو شہید اور 9 ہزار سے زائد کو زخمی کر چکی ہے اور تقریبا 22 ہزار افراد کو گرفتار کر کے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈالا جا چکا ہے۔
